موبائل فون نے ہماری زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ اس کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی۔
یاد ہے جب خط لکھے جاتے تھے؟ ہفتوں انتظار ہوتا تھا۔ آج ایک بٹن پر پیغام دنیا کے دوسرے کونے پہنچ جاتا ہے۔
موبائل نے کاروبار آسان بنا دیا ہے۔ چھوٹا دکاندار بھی آن لائن فروخت کر رہا ہے۔ تعلیم بھی اب فون پر دستیاب ہے۔
مگر اس کے نقصانات بھی ہیں۔ خاندانی محفلیں اب خاموش ہو گئی ہیں۔ ہر کوئی اپنے فون میں گم ہے۔
توازن ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کو غلام بنائیں، آقا نہیں۔ وقت مقرر کریں اور خاندان کو ترجیح دیں۔
مصنف
بلال احمد معیشت اور ٹیکنالوجی کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ وہ پیچیدہ معاشی معاملات کو سادہ اردو میں سمجھانے کے لیے معروف ہیں۔
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
محلے کے چائے خانے میں گزری شامیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ وہاں کی گپ شپ میں زندگی کا اصل رنگ تھا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل
گاؤں کی صبح کی تازگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ شہر کی زندگی میں کہاں نصیب ہوتی ہے۔
بلال احمد
۲ ہفتے قبل
لاکھوں کی آبادی والے شہر میں بھی انسان تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
حنا شیخ
۲ ہفتے قبل