محلے کے چائے خانے میں گزری شامیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ وہاں کی گپ شپ میں زندگی کا اصل رنگ تھا۔
ہمارے محلے کے نکڑ پر ایک چھوٹا سا چائے خانہ تھا۔ شام ہوتے ہی وہاں رونق لگ جاتی۔ بزرگ اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر دن بھر کی خبریں بانٹتے۔
چائے والے کی کیتلی کی سیٹی اور کپوں کی کھنکھناہٹ آج بھی کانوں میں گونجتی ہے۔ وہ چائے میں جو ذائقہ تھا، وہ بڑے ہوٹلوں میں کہاں۔
وہاں ہر موضوع پر بحث ہوتی۔ سیاست سے لے کر کھیل تک۔ اختلاف بھی ہوتا مگر محبت کم نہ ہوتی۔ یہی تو ہماری تہذیب تھی۔
آج وہ چائے خانہ تو نہیں رہا، مگر اس کی یادیں دل میں بسی ہیں۔ کاش ہم اپنے بچوں کو بھی وہ ماحول دے سکیں۔
بلاگر
فاطمہ زہرہ معاشرتی موضوعات، طرز زندگی اور کتابوں پر بلاگ لکھتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں روزمرہ زندگی کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
گاؤں کی صبح کی تازگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ شہر کی زندگی میں کہاں نصیب ہوتی ہے۔
بلال احمد
۲ ہفتے قبل
لاکھوں کی آبادی والے شہر میں بھی انسان تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
حنا شیخ
۲ ہفتے قبل
کتاب بہترین دوست ہے۔ جو کتابوں سے دوستی کر لے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل