گاؤں کی صبح کی تازگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ شہر کی زندگی میں کہاں نصیب ہوتی ہے۔
گاؤں کی صبح کا اپنا ہی مزہ ہے۔ مرغے کی بانگ پر آنکھ کھلتی ہے اور کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا ہے۔
کھیتوں میں اوس کے قطرے سورج کی کرنوں میں موتیوں کی طرح چمکتے ہیں۔ کسان ہل چلانے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔
دادی اماں چولہے پر ناشتہ بناتیں اور پورے گھر میں دیسی گھی کی خوشبو پھیل جاتی۔ وہ ذائقہ آج تک نہیں بھولا۔
شہر کی مصروف زندگی میں یہ سکون کہاں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ سب چھوڑ کر گاؤں لوٹ جاؤں۔
مصنف
بلال احمد معیشت اور ٹیکنالوجی کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ وہ پیچیدہ معاشی معاملات کو سادہ اردو میں سمجھانے کے لیے معروف ہیں۔
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
محلے کے چائے خانے میں گزری شامیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ وہاں کی گپ شپ میں زندگی کا اصل رنگ تھا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل
لاکھوں کی آبادی والے شہر میں بھی انسان تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
حنا شیخ
۲ ہفتے قبل
کتاب بہترین دوست ہے۔ جو کتابوں سے دوستی کر لے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل