لاکھوں کی آبادی والے شہر میں بھی انسان تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
شہر میں لاکھوں لوگ بستے ہیں مگر پھر بھی اکثر چہروں پر تنہائی نظر آتی ہے۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن ہے۔
پہلے محلے میں سب ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ آج اپارٹمنٹ میں رہنے والا پڑوسی کا نام بھی نہیں جانتا۔
سوشل میڈیا نے ہمیں جوڑنے کے بجائے مزید دور کر دیا ہے۔ ہزاروں فالوورز مگر دل کی بات کہنے والا کوئی نہیں۔
حل یہی ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں سے رشتہ جوڑیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک سلام بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
مصنفہ
حنا شیخ تعلیم، صحت اور خواتین کے موضوعات پر لکھتی ہیں۔ ان کے کالم سماجی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
محلے کے چائے خانے میں گزری شامیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ وہاں کی گپ شپ میں زندگی کا اصل رنگ تھا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل
گاؤں کی صبح کی تازگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ شہر کی زندگی میں کہاں نصیب ہوتی ہے۔
بلال احمد
۲ ہفتے قبل
کتاب بہترین دوست ہے۔ جو کتابوں سے دوستی کر لے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل