بارش کی بوندیں ماضی کی یادوں کو تازہ کر دیتی ہیں۔ ہر بوند ایک کہانی سناتی ہے۔
بارش ہوتے ہی دل ماضی کی وادیوں میں چلا جاتا ہے۔ بچپن میں بارش میں بھیگنا کتنا اچھا لگتا تھا۔
امی کی پکوڑوں کی خوشبو، ابو کی کہانیاں اور بارش کی رم جھم۔ وہ لمحے آج بھی تازہ ہیں۔
بارش قدرت کا حسین تحفہ ہے۔ یہ زمین کو سیراب کرتی ہے اور دلوں کو بھی تازگی بخشتی ہے۔
کبھی کبھی رک کر بارش کو دیکھنا چاہیے۔ زندگی کی دوڑ میں یہ چھوٹی خوشیاں ہی اصل دولت ہیں۔
بلاگر
فاطمہ زہرہ معاشرتی موضوعات، طرز زندگی اور کتابوں پر بلاگ لکھتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں روزمرہ زندگی کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
محلے کے چائے خانے میں گزری شامیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ وہاں کی گپ شپ میں زندگی کا اصل رنگ تھا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل
گاؤں کی صبح کی تازگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ شہر کی زندگی میں کہاں نصیب ہوتی ہے۔
بلال احمد
۲ ہفتے قبل
لاکھوں کی آبادی والے شہر میں بھی انسان تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
حنا شیخ
۲ ہفتے قبل