استاد روحانی باپ ہوتا ہے۔ جس قوم نے استاد کا احترام کیا، وہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی۔
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ استاد کا درجہ والدین کے بعد ہے۔ یہ محض کہاوت نہیں، ایک حقیقت ہے۔
میرے استاد نے مجھے صرف پڑھایا نہیں، جینا سکھایا۔ ان کی ایک نصیحت آج بھی میری رہنمائی کرتی ہے۔
افسوس کہ آج استاد کا وہ مقام نہیں رہا۔ معاشرے کو اساتذہ کی قدر کرنی چاہیے۔
جو قومیں ترقی کرتی ہیں، وہ اپنے اساتذہ کو عزت دیتی ہیں۔ ہمیں بھی یہی راستہ اپنانا ہوگا۔
مصنف
بلال احمد معیشت اور ٹیکنالوجی کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ وہ پیچیدہ معاشی معاملات کو سادہ اردو میں سمجھانے کے لیے معروف ہیں۔
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
محلے کے چائے خانے میں گزری شامیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ وہاں کی گپ شپ میں زندگی کا اصل رنگ تھا۔
فاطمہ زہرہ
۲ ہفتے قبل
گاؤں کی صبح کی تازگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ شہر کی زندگی میں کہاں نصیب ہوتی ہے۔
بلال احمد
۲ ہفتے قبل
لاکھوں کی آبادی والے شہر میں بھی انسان تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
حنا شیخ
۲ ہفتے قبل