ہمارا تعلیمی نظام کئی دہائیوں سے اصلاح کا منتظر ہے۔ نصاب پرانا ہے، تدریسی طریقے فرسودہ ہیں اور امتحانی نظام رٹے پر مبنی ہے۔
دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور ہم ابھی تک بچوں کو وہی پڑھا رہے ہیں جو تیس سال پہلے پڑھایا جاتا تھا۔ یہ المیہ ہے۔
اصلاح کی شروعات اساتذہ کی تربیت سے ہونی چاہیے۔ ایک اچھا استاد نصاب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اساتذہ کو عزت اور مناسب معاوضہ دیا جائے۔
نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور عملی مہارت پر توجہ دی جائے۔
تعلیم پر خرچ سرمایہ کاری ہے، بوجھ نہیں۔ جو قوم تعلیم پر خرچ کرتی ہے، وہی ترقی کرتی ہے۔
مصنف
بلال احمد معیشت اور ٹیکنالوجی کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ وہ پیچیدہ معاشی معاملات کو سادہ اردو میں سمجھانے کے لیے معروف ہیں۔