مہنگائی آج ہر گھر کا مسئلہ بن چکی ہے۔ بازار جاؤ تو ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ عام آدمی کی تنخواہ وہیں کی وہیں ہے مگر اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔
حکومت کے اعداد و شمار کچھ بھی کہیں، گھر کا بجٹ بنانے والی خاتون کو اصل صورتحال کا علم ہے۔ دال، آٹا، چینی اور بجلی کے بل ہر ماہ نیا ریکارڈ بنا رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف عالمی حالات ہیں یا ہماری پالیسیوں میں بھی خامیاں ہیں؟ ماہرین کے مطابق دونوں عوامل کارفرما ہیں۔
حل کیا ہے؟ پہلا قدم تو یہ ہے کہ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔ دوسرا، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ تیسرا، کسان کو براہ راست منڈی تک رسائی دی جائے۔
عام آدمی صبر کا پیکر ہے مگر صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔ حکومت کو فوری اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
چیف ایڈیٹر
عمران شاہ کو صحافت کا پندرہ سال سے زائد کا تجربہ ہے۔ وہ ملکی سیاست اور پارلیمانی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں اور راستہ کی ادارتی پالیسی کی نگرانی کرتے ہیں۔